Skip to content
Waqas Khan Pitafi
Founder and CEO, DevBatch · Dallas

Essay

چین کی ترقی کا سفر

ایک کاروباری شخص کا چین کی ترقی پر تجزیہ: نقل کرنے والی قوم کیسے ایجاد کرنے والی قوم بنی، انسانی سرمائے کی نظر سے۔

یہ میرا چین کا تیسرا سفر ہے۔

پہلی بار جب میں یہاں آیا تھا، میں نے ایک ایسا ملک دیکھا جو دن رات کام میں جُتا ہوا تھا۔ ہر طرف کارخانے، ہر طرف مال بردار ٹرک، ہر طرف وہ چیزیں بن رہی تھیں جو بعد میں دنیا کے ہر کونے میں ”میڈ اِن چائنا“ کے لیبل کے ساتھ بکتی تھیں۔ اُس وقت چین سستی چیزوں کا گھر تھا۔ نقل کا گھر۔

اِس بار میں نے ایک اور ہی ملک دیکھا۔

سڑکوں پر بجلی سے چلنے والی گاڑیاں اتنی خاموشی سے گزرتی ہیں کہ کان ترس جاتے ہیں۔ کارخانوں میں انسان کم اور روبوٹ زیادہ ہیں۔ آسمان پر ڈرون سامان پہنچا رہے ہیں۔ شنگھائی کی فلک بوس عمارتیں، شینزن کی لیبارٹریاں، گوانگژو کے کارخانے، یہ اب سستی نقل کے مرکز نہیں رہے۔ یہ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی بنانے کی جگہیں بن چکی ہیں۔

دس سال پہلے یہ بات کوئی نہ مانتا۔ آج یہ حقیقت ہے۔ ٹیکنالوجی ہو، انجینئرنگ ہو، بجلی کی گاڑیاں ہوں یا فوجی طاقت، چین آج تقریباً ہر میدان میں کسی بھی بڑے ملک کے سامنے کھڑا ہے۔ ”دنیا کا کارخانہ“ آہستہ آہستہ ”دنیا کی تجربہ گاہ“ بن چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ سب ہوا کیسے؟

میں نے حال ہی میں ہارورڈ میں وقت گزارا۔ دنیا بھر کے کاروباری مالکان اور پروفیسروں کے درمیان بیٹھ کر یہی سوال میرے ذہن میں بار بار گونجتا رہا۔ میں ایک طالبِ علم کی حیثیت سے اس کا گہرا جواب چاہتا تھا۔ آسان جواب نہیں۔

آسان جواب اور اُن کے بہانے

آسان جواب تو سب کے پاس ہیں۔

  • انہوں نے ٹیکنالوجی چرائی۔
  • اُن کے مزدور سستے تھے۔
  • حکومت نے بے تحاشا پیسہ لگا دیا۔
  • اُن کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے۔

یہ چاروں آدھے سچ ہیں اور پورے بہانے۔

نقل اور چوری سے آپ ایک چیز بنا سکتے ہیں، مگر بار بار نئی چیز ایجاد کرنے کی صلاحیت نقل نہیں ہوتی۔ سوویت یونین بھی نقل کرتا رہا اور پھر بکھر گیا۔ سستے مزدور بہت سے ملکوں کے پاس تھے، بھارت، بنگلہ دیش، افریقہ، مگر سستا مزدور آپ کو فیکٹری بناتا ہے، موجد نہیں۔ اور آج تو چین کا مزدور سستا بھی نہیں رہا۔ پیسہ تو بہت سی حکومتوں نے لگایا اور بدلے میں کچھ نہ ملا۔ اور آبادی؟ بھارت کی آبادی بھی اتنی ہی ہے۔

تو اصل وجہ کہیں اور ہے۔ اصل وجہ سیاست میں نہیں۔ اصل وجہ لوگوں میں ہے۔ انسانی سرمائے میں۔

نقل دراصل شاگردی تھی

سب سے بڑی بات جو لوگ نہیں سمجھتے وہ یہ ہے۔ نقل کرنا ایجاد کرنے کا اُلٹ نہیں تھا۔ نقل کرنا اصل میں تربیت تھی۔ شاگردی تھی۔

ایک سادہ سی بات ہے۔ آپ اُس علم پر نیا کام نہیں کر سکتے جسے آپ ابھی سمجھے ہی نہیں۔ پہلے سمجھنا پڑتا ہے، پھر آگے بڑھنا۔ چین نے پہلے سمجھا۔

جب آپ بیس سال تک ساری دنیا کے لیے آئی فون جوڑتے ہیں، جرمنی کے سولر پینل بناتے ہیں، جاپان کی گاڑیوں کے پرزے ڈھالتے ہیں، تو آپ کے لاکھوں انجینئر اور کاریگر خاموشی سے یہ سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ جدید چیز اصل میں بنتی کیسے ہے۔ کارخانے کا فرش ہی اُن کا اسکول تھا۔

اس کی سب سے خوبصورت مثال چین کی تیز رفتار ٹرین ہے۔ شروع میں چین کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ اس نے جاپان، جرمنی اور فرانس کی کمپنیوں سے معاہدے کیے، اس شرط پر کہ ٹیکنالوجی ساتھ سکھائی جائے گی۔ چین نے سیکھا، پھر اپنی ٹرین بنائی، اور آج دنیا کا سب سے بڑا تیز رفتار ریل نظام چین کے پاس ہے۔ اور اب چین یہی ٹرینیں دوسرے ملکوں کو بیچتا ہے۔ کل کا شاگرد آج کا استاد ہے۔ یہی کہانی بجلی کی گاڑیوں، بیٹری اور سولر کی ہے۔ جو سپلائی چین دنیا کے لیے کام کرتے کرتے بنی، اسی نے بی وائے ڈی اور سی اے ٹی ایل جیسی کمپنیاں پیدا کیں۔

انجینئروں کا سیلاب

پھر چین نے ایک اور کام کیا۔ اُس نے انجینئروں کا سیلاب کھڑا کیا۔

1999 میں چین نے اپنی یونیورسٹیوں کے دروازے یکدم چوڑے کر دیے۔ جو تعلیم پہلے چند لاکھ تک محدود تھی، وہ کروڑوں تک پھیل گئی۔ اور سب سے زیادہ زور سائنس اور انجینئرنگ پر رہا۔

آج چین ہر سال تقریباً 20 لاکھ سائنس اور انجینئرنگ گریجویٹ نکالتا ہے، جبکہ امریکہ 9 لاکھ سے بھی کم۔ سب سے اوپر، پی ایچ ڈی کی سطح پر، چین جلد ہی ہر سال 77,000 اسٹیم پی ایچ ڈی نکالے گا، امریکہ کے 40,000 کے مقابلے میں۔ اور یہ تعداد ہر سال نو فیصد بڑھ رہی ہے، جبکہ امریکہ کی صرف تین فیصد۔

ایجاد کے لیے پہلے ایجاد کرنے والے چاہئیں۔ چین نے پہلے یہ تعداد بنائی۔

سمندری کچھوے: جو لوٹ آئے

لیکن صرف تعداد سے بات نہیں بنتی۔ سب سے خوبصورت چال ابھی باقی ہے۔

چین نے اپنے بہترین نوجوان امریکہ اور یورپ کی بہترین لیبارٹریوں میں پڑھنے بھیجے۔ یہ سلسلہ 1978 میں ڈینگ ژیاؤپنگ کے دور میں شروع ہوا۔ مگر برسوں تک یہ نوجوان واپس نہ آئے۔ باہر زندگی آسان تھی، تنخواہ بہتر تھی، تحقیق کے مواقع زیادہ تھے۔ یہ چین کے لیے دماغوں کا نقصان تھا۔

پھر چین نے ایک سوچا سمجھا نظام بنایا۔ 2008 میں ”ہزار ہنرمندوں کا منصوبہ“ شروع ہوا۔ واپس آنے والوں کو گھر دیا گیا، اچھی تنخواہ دی گئی، اپنی لیب دی گئی، اور سب سے بڑھ کر عزت دی گئی۔ واپسی کو ممکن ہی نہیں، پُرکشش بنا دیا گیا۔

نتیجہ؟ ستر کی دہائی سے اب تک 65 لاکھ سے زیادہ لوگ پڑھ لکھ کر وطن لوٹے۔ جو تعداد سن دو ہزار میں صرف پندرہ ہزار سالانہ تھی، وہ 2019 میں پانچ لاکھ اسی ہزار ہو گئی۔ آج باہر پڑھنے والے ہر سو میں سے چھیاسی واپس آ جاتے ہیں۔

ان لوگوں کو چینی زبان میں ”سمندری کچھوے“ کہتے ہیں، وہ کچھوے جو سمندر پار کر کے اپنے ساحل پر انڈے دینے واپس آتے ہیں۔

یہ لوگ صرف ڈگریاں نہیں لائے۔ یہ وہ علم ساتھ لائے جو کوئی کتاب، کوئی نقل، کوئی جاسوسی منتقل نہیں کر سکتی۔ دنیا کی بہترین لیبوں میں برسوں کام کرنے کا تجربہ۔ یہی وہ لمحہ تھا جب نقل کرنے والی قوم ایجاد کرنے والی قوم بنی۔ بائیڈو جیسی کمپنیاں اِنہی واپس آنے والوں نے بنائیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جو نوجوان واپس آئے، انہوں نے باہر رہ جانے والوں کے مقابلے میں ستائیس فیصد زیادہ تحقیقی کام کیا۔

لوگوں کے پیچھے پیسہ

ہنرمند لوگ اگر مصروف اور خوشحال نہ رہیں تو چلے جاتے ہیں۔ چین نے اس کا بھی حل نکالا۔ اُس نے لوگوں کے پیچھے پیسہ لگایا۔

2010 میں چین کا تحقیق پر خرچ امریکہ کا صرف 47 فیصد تھا۔ 2023 میں یہ 95 فیصد ہو گیا۔ اور 2025 میں یہ خرچ پہلی بار اپنی جی ڈی پی کے 2.8 فیصد تک پہنچ کر امیر ملکوں کی اوسط سے بھی آگے نکل گیا۔ رقم میں یہ تقریباً پانچ سو پچاس ارب ڈالر ہے۔

اور اب چین صرف عملی تحقیق پر نہیں، بنیادی سائنس پر بھی خرچ بڑھا رہا ہے۔ نتیجہ سامنے ہے۔ دنیا میں جن دس اداروں سے سب سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع ہوئے، اُن میں سات چینی ہیں۔

ایک جگہ، ایک سمت

دو باتیں اور ہیں جنہوں نے سب کچھ تیز کر دیا۔

پہلی، چین نے اپنے ہنرمندوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا۔ شینزن جیسے شہر، جہاں سپلائی چین، انجینئر اور سرمایہ ایک ہی جگہ موجود ہیں۔ وہاں جو نمونہ کہیں اور بنانے میں مہینہ لگتا ہے، ایک ہفتے میں تیار ہو جاتا ہے۔ جب باصلاحیت لوگ ایک جگہ ہوں، تو رفتار خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

دوسری، حکومت نے یہ ساری طاقت چنے ہوئے میدانوں پر لگائی۔ بجلی کی گاڑیاں، بیٹری، سولر، ڈرون، فائیو جی، اور اب اے آئی۔ آج بی وائے ڈی دنیا کی سب سے بڑی بجلی کی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ہے، سی اے ٹی ایل سب سے بڑی بیٹری بنانے والی، ڈی جے آئی دنیا کے زیادہ تر ڈرون بناتی ہے، ہواوے نے فائیو جی میں دنیا کی قیادت کی، اور حال ہی میں ڈیپ سیک نامی چینی اے آئی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ آج چین میں بکنے والی ہر دو نئی گاڑیوں میں سے ایک سے زیادہ بجلی کی ہے۔

دیوار جو ابھی باقی ہے

یہ کہانی مکمل نہیں ہے، اور مجھے ایمانداری سے یہ بھی کہنا ہے۔

سب سے اوپر، سب سے مشکل سطح پر، اب بھی ایک دیوار کھڑی ہے۔ جدید ترین کمپیوٹر چپ اور بنیادی سائنس میں چین آج بھی پیچھے ہے۔

ہمارا ہنر تعداد میں بہت بڑا ہے، مگر ابھی اتنا مضبوط نہیں۔

فون کی نقل ہو سکتی ہے، چپ بنانے والی مشین کی نقل اتنی آسان نہیں، کیونکہ وہ علم چند ہاتھوں میں بہت مضبوطی سے بند ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں نقل کا راستہ رک جاتا ہے۔

اصل سبق

تو اصل سبق کیا ہے؟

ایجاد خریدی نہیں جاتی۔ ایجاد بنائی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ۔ بیس پچیس سال میں۔ پہلے دوسروں کے لیے کام کرو اور سیکھو، پھر اپنے سیکھے ہوئے لوگوں کو واپس بلاؤ، پھر اُن پر پیسہ لگاؤ، پھر انہیں ایک سمت دو، اور پھر آپس کے سخت مقابلے میں انہیں تپا کر کندن بناؤ۔ بس یہی پوری کہانی ہے۔

اور یہی بات مجھے اپنے لوگوں سے کہنی ہے۔ ایک قوم بھی ایک انسان کی طرح ہوتی ہے۔ وہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ اُسے اوپر چڑھنا ہے۔ اس کا راستہ کوئی پہاڑ نہیں، کوئی معجزہ نہیں، صرف ایک سادہ سی چیز ہے۔ اپنے لوگوں میں سرمایہ کاری۔ تعلیم، ہنر، اور پھر صبر۔ چین نے پچیس سال پہلے یہ فیصلہ کیا۔ آج دنیا اسے ایجاد کہتی ہے۔

ہمارے پاس بھی لوگ ہیں۔ ذہین، محنتی، نوجوان۔ کمی نیت اور صبر کی ہے، تعداد کی نہیں۔

پچھلے دنوں ایک کہانی نے دنیا کو رُلا دیا۔ ووزینیا، کیپ ورڈی کا چالیس سالہ گول کیپر، جس نے ورلڈ کپ میں اسپین جیسی ٹیم کو روک دیا۔ اُس نے برسوں چھوٹے چھوٹے گمنام کلبوں میں محنت کی تھی۔ دنیا نے اسے ایک رات میں دریافت کیا۔

چین کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ اُس نے پچیس سال خاموشی سے محنت کی، اور دنیا نے اسے ایک دہائی میں ایجاد کہہ کر پکارا۔

اصل کہانی تو ہمیشہ وہ سال ہوتے ہیں جب کوئی دیکھ نہیں رہا ہوتا۔

#China#Analysis

Waqas Khan Pitafi

Founder and CEO of DevBatch since 2010. Sixteen years building one engineering services firm, from Pakistan, now in Dallas.

Follow on LinkedIn